Sada-e-Watan Sydney ™
sadaewatan@gmail.com

سوال:سب سے پہلے تو ہم آپ کے شکر گذار ہیں کہ اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحات ہمیں عنایت فرمائے کہ ہم بہت اہم ایشوز پر گفتگو کرسکیں ۔ آپ کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن مقرر ہوئے ایک برس گزر گیا ہے اس ایک سال کے دوران آپ نے وہاں کام کرتے ہوئے کیا ؟ کیسے تجربات سامنے آئے؟

جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم : پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں جانے کے بعد ایسی چیزیں جن کا پہلے سے اتنا احساس نہیں تھا وہاں جاکر ان کا احساس ہوا کہ یہ ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جس میں پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کی کریم (Cream)وہاںبیٹھی ہوتی ہے اور جو تمام مسالک کی نمائندگی کر رہی ہوتی ہے اور وہاں کوئی مناظرہ یا جھگڑے یا جدل کی کیفیت نہیں ہوتی بلکہ آپس میں بہت زیادہ ہم آہنگی اور پیار کی فضا اور ایکدوسرے کی رائے کو بڑے تحمل سے سننا اور جہاں اختلاف نظر ہے وہاں دلیل کے ساتھ اپنی بات کو کہنا اور یہ ہے کہ جو ایک باہر تاثرملتا ہے کہ علمائے کرام جوہیں ہمیشہ لڑتے رہتے ہیں ایک دوسرے کی بات کو قبول نہیں کرتے، ایک دووسرے کی دلیل نہیں سنتے تو اسی ادارہ میں ایسا کچھ نہیں نہ کوئی کسی کو کافر کہتا ہے نہ کوئی کسی کو مشرک قرار دیتا ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف فتویٰ دیاجاتاہے۔ اس دوران اجلاس ہمارے ہوئے تو اس دوران سب سے اہم بات جس کا ہمیں عملی بارتجربہ ہوا کیونکہ میں تو ہمیشہ وحدت ِ مسلمین کے لیے کوشاں رہا ہوںاور میرا علمائے اہلسنت سے بہت قریبی رابطہ رہا ہے اور اب بھی ہے اور لیکن باہر کی فضاکچھ اور ہے ۔یہاں جب بیٹھ کر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کام کرنے کا موقع ملا ہے تو یہ ایک مختلف تجربہ تھا اور اس میں آپکو پتہ ہے کہ اہل حدیث ،بریلوی، دیوبندی اور فقہ جعفری کے

پیرویعنی شیعہ ،ان سب مسالک کی نمائندگی موجود ہے ۔باہر عام طور پر پاکستان میں آئے روز یہ خبریں نشر ہوتی ہیں کہ بریلوی جو ہیں وہ اہل حدیث کو قبول نہیں کرتے ، ان کے خلاف بول رہے ہوتے ہیں۔ دیوبندی مزارات کے خلاف اور درباروںکے خلاف خطابات کررہے ہوتے ہیں اور بریلویوں کو مشرک اور پتا نہیں کیا کیا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اہل حدیث اپنے سوا دوسروں کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔یا دیوبندیوںمیں ایسے گروپ ہیںجو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ شیعہ کافر ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو آئینی ادارہ ہے جہاں پر اسلامی قوانین کے حوالے سے گفتگو ہوتی ہے اور مسلمانوں کے وقار اور ان کے مستقبل بات ہوتی ہے کہ کس طرح انھوں نے اپنی معاشی زندگی گزارنی ہے یہ ایک ذمہ دار ادارہ ہے ۔ وہاں ہم نے دیکھا ہے کہ بیس اراکین میں میں اکیلا شیعہ ہوں لیکن کبھی کوئی جھگڑا نہیں کوئی ایسی بات نہیں، ہم نے اپنی بات کہی ہر مسلک والے نے ہماری بات کل سے سنا فقہ حنفی والے نے اپنی بات کہی بلکہ وہاں پر یہ ہے کہ جس فقہ کے پیروکار موجود نہیں ان کی بات بھی ہوتی ہے۔ دوسری بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ

کہ فقہ جعفری کی نمائندگی جو سابقہ ادوار میں رہی یقیناان نمائندوں نے کام بھی کیا ہوگا اورمختلف فقہی مسائل میںجہاں اختلاف نظر ہے وہاں اپنا نقطہ ¿ نظر بھی پیش کیا ہوگالیکن جو سفارشات اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے چھپی ہوئی ہیں اور جو رپورٹس شائع شدہ ہیں یعنی ۳۷ ءسے لے کر اب تک کی جتنی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں میرے خیال میں کئی ہزار صفحات بنتی ہیں ان کو پڑھنے سے محسوس ہوا کہ فقہ جعفری کا جو اختلاف بعض مسائل میںہے جو اختلافی نکتہ نظر ہے وہ رپورٹس میں شائع نہیں ہوا ۔اب کیوں شائع نہیں ہوا ؟ملعوم نہیں! کیونکہ جو ماحول ہم نے دیکھا تو وہاں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کہیں سے یہ ہدایت دی جاتی ہو کہ شیعہ کی رائے کوشائع نہ کیا جائے اور یہ کیسے سستی ہوئی یا کیا ہوا بہرحال یہ ایک چیز میں نے محسوس کی کہ وہاں یہ ریکارڈمیں تحریر ہے

وہاں شیعہ نقطہ نظربہت ہی کم ہے یہ نہ ہونے کے برابرہے۔

سوال: ماضی میں ہمارے علماءکرام جو بطور نمائندگان ملت جعفریہ وہاں موجود تھے انھوں نے کیا کام کیا؟آپ کہتے ہیں کہ ان کے اختلافی نوٹس شائع نہیں کیے گئے دوسری طرف آپ فرما رہے ہیں کہ وہاںپر پیار ،محبت امن ،سکون اور آشتی کی فضا ہے تو اس میں کسی لیول پر کوئی تعصب کارفرما ہے یا ادارے کے ملازمین کی کچھ سستی یا نااہلی شامل ہے ، جس کے باعث علمی اختلاف کی اشاعت کو درخورِ اعتناءنہیں سمجھا گیا؟ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: میں سمجھتاہوں یہ بے توجہی کیوجہ سے ہوا ہے اور کیونکہ کچھ اراکین کی آراءہیں بھی سہی توفقط اتنالکھ دیا گیا ہے کہ فلاں رکن نے اختلاف کیا ہے ، مثلاًغامدی کے بارے ہے کہ فلاں مسئلہ پر انہوں نے اختلاف کیا ہے ۔ اب ان کا اختلافی نوٹ کیا ہے ؟ یہ توبہت کم دیا گیا ہے ، بعض جگہ پر دیابھی گیا ہے یعنی جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھ کرہم نے یہ چاہا کہ جیسے جناب افضل حیدر کے بعض نوٹس کے بارے میں بحث ہوئی تو ہم نے چاہا کہ وہ نوٹس ہمیں مل جائیں۔تونوٹس نہیں ملے البتہ ہمیں بتایاگیاکہ ماضی میں کچھ فائلیںاسلامی نظریاتی کونسل سے چوری

ہوگئی تھیں۔اب وہ کس طرح سے چوری ہوئیں اس پر کافی بحث ہوتی رہی ۔ بعض نے کہا کہ نچلے عملے نے انھیں غلطی سے بیچ کراس سے خرچہ بنا لیا۔وہ ایک کمزوری ہی اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کیوں گُم ہوئیں۔ظاہر ہے کہ جس نے جو بھی اختلافی نوٹ دیتا ہے تو وہ رپورٹ میں آجاتاہے۔ پھر جو شائع جو کیا جاتا ہے وہ پورا شائع نہیں کیا جاتا کیونکہ اُس سے کتاب بہت بھاری بن جائے گی۔ جو عملہ ریسرچ کاہے اُنہوں نے اس میںابحاث کا انتخاب کرنا ہوتا ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے جومعزز اراکین ماضی میں تھے اُنہوں نے اس کی طرف اُن کی توجہ نہیں رہی کہ جس طرح ایک سفارش بن کے جاتی ہے فقہ حنفی کے حوالے سے تو ضرورت اس امر کی تھی کہ جہاں اختلافی نوٹ موجودتھا تواسمبلی میںسفارش بھیجتے وقت اُس اختلافی نوٹ کے حوالے سے فقہ جعفریہ کے لئے بھی ایک سفارش بن کے جاتی کہ ان کا نقطہ¿ نظر یہ ہے۔ یا مثلاً اہل حدیث بعض مسائل میںاختلاف رکھتے ہیں کیونکہ وہ غیر مقلد ہیںبعض جگہوں پر ان کا اختلاف ہے آئین نے یہ حق دیا ہے کہ احوال شخصیہ اور عبادات میں جتنے بھی مسالک ہیں ہر مسلک اپنے فقہی نظریے کے مطابق عمل کرے گا اور یہ حق فقط پاکستان کے آئین میں نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کا چارٹر ہے اُس میں بھی یہ حق تسلیم شدہ ہے اور یہ بین الاقوامی تسلیم شدہ ہے اور کوئی کسی بھی ملک میںہو وہ اپنے شہریوںکا یہ حق اُن سے نہیں لے سکتے اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کو احوال شخصیہ کے حوالے سے جس میں نکاح، طلاق، میراث، اجارہ اسی طرح کے پندرہ عناوین ہیں تو اسی طرح عبادات ہیں تو ہر ایک کو ہر شہری کو

اُس کا حق ہے اور پاکستان اسلامی مملکت ہے تو یہاں پر بھی یہ حق تمام مسلمانوں کے لئے ہے بلکہ ہندو اور عیسائی سکھ کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے مسلک کے مطابق عمل کرے لہٰذا کوئی آئینی رکاوٹ نہیں تھی بلکہ یہاں ہر مسلک کی نمائندگی کی موجودگی خود اس بات کی دلیل ہے لیکن عملاً یہاں ایسا ہوا نہیں میں نے اس پر بارے میں چیئرمین کو باقاعدہ لکھ کر بھی دیا ہے اور کونسل کے اجلاس میں بھی میں نے کہا ہے کہ جب ایک اجلاس کی کارروائی مکمل ہو جاتی ہے، میں نے دو باتیں چیئرمین صاحب سے کہی ہیں اور کونسل کے اجلاس میں بھی اس کو بار بار دہرایا ہے وہ یہ کہ جب کونسل کی طرف سے کسی بھی مسئلہ پر قانون سازی کے لئے سفارش تیار کرکے قومی اسمبلی کو بھیجی جائے تو جہاں پر فقہ جعفری کے پیروکاروں کا نقطہ¿ اختلافی ہو تو اُن کے مسلک کے مطابق بھی اُسی کے ساتھ قانون سازی کے لئے سفارش بھیجی جائے کیونکہ یہ اُن کا آئینی حق ہے۔ دوسری بات میں نے یہ کہی ہے کہ جہاں پر میں نے اختلافی نوٹ اپنا دیا ہے اور تو وہ جب رپورٹ شائع ہو تو اُس رپورٹ میں میرا وہ اختلافی نوٹ بھی شائع کیا جائے۔ کیونکہ جہاںپر اور معزز اراکین کی آراءیا ریسرچ کے شعبہ کی طرف سے تحقیق تفصیل کے ساتھ شائع ہوتی ہے تو اُس میں جب اختلاف نظر آجاتا ہے تو اختلاف نظر والا جو نوٹ ہے وہ خالی یہ نہ لکھا جائے کہ فلاں معزز رکن نے اس نقطہ سے اختلاف کیا ہے۔ کیونکہ اسلامی نظریاتی کونسل میںتو ایک فقہ کے پیروکار ہیں جب وہ ایک مسئلہ پر اختلاف نظر کرتے ہیں تو اُس مسئلہ میںان کی اکثریت کی رائے لے لی جاتی ہے لیکن

جب فقہی نقطہ نظر میں مختلف مسلک والا اختلاف کرتا ہے تو اس کا نقطہ نظر دینا ہوتا ہے مثلاً فقہ حنفی والے بارہ اراکین اگر بیٹھے ہیں تو ایک مسئلے پر اگر وہ اختلاف کر رہے ہیں تو بارہ میں سے دس جس بات پر یا سات جس پر آجائیں تو اُسی کے مطابق فیصلہ دے دیا جاتا ہے لیکن اگر ایک غیر مقلد بیٹھا ہے اہل حدیث نے اُس نے اختلاف کیا ہے یا فقہ جعفریہ کے پیرو نے اختلاف کیا ہے تو وہ اُس میں اکثریت والی بات نہیںلی جاسکتی کیونکہ وہ رکن تو اپنے مسلک کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے تو اُس کے حوالے سے اُس کی پوری رائے آنی چاہیے اور اُسے شائع بھی کیا جانا چاہیے۔ اور ایک اور بات میں نے وہاں پر نوٹ کی وہ یہ ہے کہ جتنے بھی اجلاس ہوئے جب کسی بحث کو شعبہ ریسرچ نے اُس پر تحقیق کرکے دیا تو اُس میں فقط آئمہ اربعہ کی رائے کو دیا گیا۔ جیسے زکوٰة کے بارے میں جب نوٹ تیار ہوا یا طلاق کے مسئلے پر ایک نوٹ تیار ہوا یا حج میں محرم کے مسئلہ پر نوٹ تیار ہوا یا رویت ہلال کے بارے میں ایک نوٹ تیار ہوا تو اُس میں ایسا ہوا کہ ریسرچ والوں نے فقط آئمہ اربعہ کی بات۔ یعنی امام مالک

امام حنبل، امام ابوحنیفہ، اور امام شافعی۔ اُس میں امام جعفر صادق علیہ السلام، آئمہ اہل بیت علیہم السلام یعنی فقہ جعفریہ کے حوالے سے تحقیقی نوٹ میںکوئی بحث نہیں دی گئی۔ تو اس پر بھی میں نے کونسل میں بھی اعتراض اُٹھایا اور چیئرمین صاحب کو لکھ کر بھی دیا کہ جو ریسرچ کا شعبہ ہے اسلامی نظریاتی کونسل میں، اُس کی ذمہ داری یہ ہے کہ ایجنڈے پربحث کے لئے مختلف عناوین آتے ہیں تو وہ اُن عناوین کے حوالے سے ایک ریسرچ نوٹ تیارکرتے ہیں جب وہ ریسرچ نوٹ تیار کرتے ہیں تو اُنہوں نے تمام مسالک کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے اور اُس میں فقط ایک مسلک کو مدنظر نہیں رکھنا ہوتا۔میں نے وہاں پر یہ بھی کہا کہ اگر فقہ جعفری کے حوالے سے کوئی پرابلم ہو یا اُس کی کتب موجود نہیں ہیں لائبریری میں تو اسلامی نظریاتی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کتب مہیا کریں اور وہ لکھ دیں کہ یہ کتاب ہمارے پاس موجود نہیں ہے، جبکہ تھوڑی سہی بہرحال کتب موجود ہیں اور فقہ جعفریہ کا ایک کامل دورہ بھی موجود ہے جس میں پوری بحث موجود ہے الفقہ کے نام سے آیت اﷲ محمد شیرازی کا۔ لیکن البتہ جتنی کتب وہاں ہونی چاہیں فقہ جعفریہ سے متعلق وہ نہیں ہیں۔ میں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کتب مہیا کریں پھر اگر کہیں مسئلہ ہوتا ہے تو ریسرچ والے مجھ سے رابطہ کرکے اُس بارے میںمجھ سے پوچھ سکتے ہیں لیکن جب ایجنڈے پر ایک چیز آئی ہے اور تحقیقی نوٹ تیار ہوتا ہے تو اُس تحقیقی نوٹ میں تمام مسالک کی آراءکا

آنا ضروری ہے۔ فقط چار کا آنا تو یہ زیادتی ہو گی بلکہ میں نے تو یہ بھی کہا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پر تمام آئمہ فقہ فخر کرتے ہیں کہ اُن کی نسبت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ ہے یا امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ ہے اور آئمہ فقہ، آئمہ اربعہ اور دیگر فقہاءکا زندگی نامہ پڑھا جاتا ہے تووہ بالواسطہ یا بلاواسطہ بعض ایک واسطے سے بعض دو واسطے سے آئمہ اہل بیت ؑ کے مدرسے سے اُن کا لنک بنتا ہے کہ اُنہوں نے بھی کسی نہ کسی امام سے درس حدیث لیا ہے اور اُن کے دروس میں شرکت کی ہے، تو میں نے کہا جب وہ تو اس کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور جب اُن کی آراءآتی ہیں تو جن کا تعلق نبوی گھرانے سے ہے تو اُن کی آراءبھی آنی چاہیے مین نے ایک اور پوائنٹ بھی ذکر کیا کہ وہ یہ تھا کہ اگر ایک شخص حضور صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت ؑ سے نہیں ہے وہ جب ایک حدیث بیان کرتا ہے تو اُس حدیث کو ہم نقل کرتے ہیں کہ فلاں محدث نے یہ بیان کیا ہے تو جو اہل بیت ؑ پیغمبر ہیں بالخصوص امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام جنہیں حضور نے اپنے حدیثی مدرسے کا سربراہ بھی بنایا اپنے بعد اور یہ فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس علم کا دروازہ ہیں اور جو علم کے شہر سے علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ علی ؑ کے راستے سے آئے اور تمام اصحاب کے

بارے پڑھتے ہیں کہ جب بھی انہیں کوئی فقہی مشکل پیش آتی تھی تو وہ حضرت علی علیہ السلام سے حل کرواتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام نے نبی پاک کے حدیثی مدرسے کو آگے پروان چڑھایا اور پھر علی مولاؑ کے بعد امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ اور پھر امام علی زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام،امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، امام علی رضا علیہ السلام، امام محمد تقی علیہ السلام، امام علی نقی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام، امام محمد مہدی (عج) ، ان تمام آئمہ علیہم السلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم کہتے ہیں، بلکہ یہ کہا کہ میرے باباؑ نے یہ کہا ہے اور اُنہوں نے رسول اﷲ سے یہ سُنا ہے۔اور ان کی جتنی بھی احادیث ہیں گویا انہوں نے روایت کی ہے اپنے جد کی حدیث کو تو پھر ان کی حدیثیں بھی تو ان کے نام سے اُن کا تذکرہ بھی ہونا چاہیے جب بھی کوئی فقہی بحث ہوتی ہے کیونکہ یہاں اسلامی نظریاتی کونسل میں فقہی بحث ہوتی ہے جب فقہی مسائل ڈسکس ہو رہے ہیں اور کسی فقہی مسئلہ کو ثابت کرنے کےلئے حدیث کا سہارا لیا جاتا ہے اور حدیث نبویہ وہ لی جاتی ہیں جو اصحاب پیغمبر سے مروی ہیں یا تابعین سے مروی ہیں تو اُن احادیث کو بھی لیا جائے جو علی مولاؑ سے اور اُن کے بعد ان کے فرزندان سے یعنی جو آئمہ اہل بیت ؑ سے مروی ہیں ، ظاہر ہے آئمہ اہل بیت ؑ کو تمام علم رجال کی کتب میں اور تمام فقہاءنے بھی، تمام محدثین نے بھی مو¿ثر عادل اور صحیح راوی قرار دیا ہے بلکہ سب سے زیادہ ان کو صحیح قرار دیا ہے کہ جو اپنے جد کی سند بیان کرتے ہیں بلکہ جب امام علی رضا ؑ نے نیشا پورجو محدثین کا مرکز ان کے زمانے میں تھا جب وہ آ رہے تھے خراسان کی طرف مامون کی طرف سے انہیں مدینہ سے یہاں لایا گیا ولی عہد بنانے کے لئے تو اُس وقت نیشاپور میں شیعہ مدرسہ نہیں تھا اور نہ ہی وہاں وہ لوگ رہتے تھے جو انہیں امام معصوم مانتے ہوں اور جب سارے محدثین اکٹھے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے جد کی کوئی حدیث بتائیں تو جب امام ؑ نے ایک حدیث بیان کی اس طرح کہ میں نے اپنے باباؑ موسیٰ کاظمؑ سے سناہے اور اُنہوں نے اپنے بابا جعفر صادق ؑ سے سُنا ہے اُنہوں نے اپنے بابا امام محمد باقر ؑ سے سنا ہے ،اُنہوں نے اپنے بابا امام زین العابدین ؑ سے سنا ہے اُنہوں نے اپنے بابا امام حسین ؑ سے اُنہوں نے اپنے بابا علی ؑ اور اُنہوں نے رسول اﷲ سے۔ تو اس حدیث کو کتب احادیث میں سلسلة الذہب یعنی طلائی سلسلہ کا نام دیا گیا ہے یعنی ایک ایسا سلسلہ جسے سلسلة الذھب کا نام دیا گیا سونے کیامانندقیمتی سلسلہ ہے یوں سمجھ لیں تو جب آئمہ اہل بیت ؑ کے بارے محدثین کے ایسے خیالات ہوں تو پھر جب ہم کسی بھی فقہی مسئلے کے بارے میں حدیث سے دلیل پیش کرتے ہیں اس بنیاد پرہم نے اجلاس میںیہ کہا کہ ریسرچ والوں کو چاہیے کہ وہ ائمہ اہل بیتؑ کی احادیث بھی اُس مسئلے بارے میں بیان کریں۔ اُن کی احادیث کی کتب نہیں ہیں تو وہ کتب ہم مہیا کر سکتے ہیں۔

سوال: آپ اب تک کتنے اجلاسوں میں شریک ہو چکے ہیں اور آپ کی طرف سے اجلاس میں کیا آﺅٹ پٹ دی گئی ہے؟

جواب:پہلا اجلاس جس میںمَیں نے شرکت کی وہ اُس وقت 181 واں اجلاس تھااور آخری اجلاس جو ابھی 3 ، 4 مئی2012ءکو ہوا ہے وہ 187 واں اجلاس ہے۔ تو یہ نو(9) اجلاس بنتے ہیں سب میںمَیں شریک رہاہوں،ان میں مختلف موضوعات زیر بحث رہے، ایک بات یہاں بتاناضروری سمجھتاہوںکہ ہمارے جو موجودہ چیئرمین ہیں ایک عالم دین ہیں اور ہمیشہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے ہیں وہ دیوبندی مسلک سے ہیں، جمعیت علماءاسلام سے ان کا تعلق ہے، صوبہ بلوچستان میں جمعیت کے امیر بھی رہے ہیں اور ابھی سینیٹر بھی ہیں، یہ معتدل ہیں اور ان کی نظر بڑی وسیع ہے، اور یہ پہلی دفعہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی کسی عالم دین کے پاس آئی ہے، ہمیشہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی بیورو کریٹس کے پاس جاتی رہی ہے، اگرچہ ہمیشہ ایسے افراد رہے جو علمی حوالے سے فقہی مدارک، منابع پر اُن کی نظر تھی عربی سے بھی زیادہ تر آشنا تھے البتہ پہلے مولانا کوثر نیازی صاحب بھی چیئرمین بنے لیکن اُن کو زیادہ مہلت نہ ملی اُن کی وفات ہو گئی اور وہ کام نہ کر سکے۔ زیادہ ترچیئرمین معروف معنوں میںغیر علماءرہے۔ موجودہ چیئرمین صاحب نے آتے ہی دو تین اہم کام انجام دے۔ ایک تو انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہماری فقہ روایتی انداز میں لکھی ہوئی ہے، جو عدالتوں میں بحثیں ہوتی ہیں قانون کی اپنی زبان ہے اُن کا ایک اپنا انداز ہے بیان فقہی مسائل بیان کرنے کا جو اندازہمارے مدارس کا ہے جو ہماری قدیمی کتب ہیں جدید کتب ہیں اُن کا فقہی مسائل بیان کرنے کا اپنا انداز ہے اُنہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ جو ہمارے فقہی مسائل ہیں ہم اُنہیں قانون کی زبان میں ڈھالیں۔ اُس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہمارے وکلاءحضرات ہمارے جج صاحبان اُن کے لئے فقہی مسائل کو سمجھنا آسان ہو گا۔ اس کے لئے پہلے کام نہیں ہوا۔پہلی دفعہ اُنہوں نے یہ بات کہی اور اس پر انہوں نے کام شروع کروایا اور اس غرض سے انہوں نے چار کمیٹیاں بنائیں۔

۔احوال شخصیہ کی کمیٹی جس کے ذمے یہ کام لگا کہ احوال شخصیہ میں اہم بحث نکاح، طلاق اور میراث کی ہوتی ہے تو انہوں نے سب سے پہلے کتاب کی نکاح کی بحث سے آغاز کروایا اور اُس میں یہی تاکید کی کہ اس پرعلماءبیٹھ کر اس انداز سے کام کریںکہ تمام نکاح کے مسائل رائج قوانین کی شکل میں بیان کئے جائیں آرٹیکلز کی شکل میں ان بحثوں کو تیار کیاجائے۔ پھر کہا کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ کون سے قوانین اس وقت رائج ہیں جو خلاف اسلام ہیں۔ تاکہ ان کی نشاندہی کرکے اسلامی نظریاتی کونسل قومی اسمبلی سے سفارش کرے کہ وہ ان خلاف اسلام قوانین کی ترمیم کےلئے قانون سازی کریں۔ اسمبلی میں اس بارے باقاعدہ تحریک لائی جائے اور اگرنئی قانون سازی کی ضرورت ہو تو کروائی جائے۔دوسری کمیٹی اُنہوں نے حدود و تعزیرات کے حوالے سے بنائی، تیسری کمیٹی معیشت کے حوالے سے، چوتھی کمیٹی بنائی گئی کہ جتنے معاہدات گورنمنٹ پاکستان کے تشکیل پاکستان سے لے کراب تک اندرون اور بیرون ممالک ہوئے ہیں اُن معاہدات کا جائزہ لیا جائے کیونکہ ہر معاہدہ ایک قانون بن جاتا ہے۔ کہ اُس میں کوئی ایسے قوانین تو نہیں بن گئے یا ایسے معاہدے تو نہیں ہوئے جو اسلام کے خلاف ہوں۔ یا اس وطن عزیز کی سلامتی کے خلاف ہوں۔ تو اس پر اُنہوں نے کام شروع کروا رکھاہے۔ جو ضابطہ کار ہے اسلامی نظریاتی کونسل کا اُس میں علیحدہ کمیٹیوں کے بنانے کا باقاعدہ قانون موجود نہیںتھا۔ اس وجہ سے وہ کمیٹیاں کام نہ کر سکین لیکن بہرحال جو چوتھی کمیٹی ہے اُس کا مفصل کام ہے کیونکہ ہزاروں صفحات پر مشتمل انگلش میں سارے معاہدات ہیں توچیئرمین نے چوہدری احمد صاحب جو پہلے سیکرٹری تھے اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ان کے ذمے کام لگایا ہوا ہے وہ اس کا کام کر رہے ہیں اور ان کی پوری خوانندگی کی جارہی ہے تاکہ وہ اس میں سے ایسے پہلو جو قابل غور ہیں وہ نکال کر کونسل میں پیش کریں۔ باقی تین کمیٹیاںجو بنائی گئی تھیںاُن میں بھی کوئی زیادہ کام نہیں ہو ا البتہ چیئرمین صاحب کا بھی اصرار ہے اور کوشش ہے کہ یہ فقہی قوانین،فقہی مسائل کورائج الوقت قوانین کی زبان میں ڈھال دیا جائے البتہ بعض اجلاسوں میں مثلاً 185ویں اجلاس میں جو ایجنڈا شروع ہوا تو پھروہی 186 میں بھی رہا پھروہی 187 میں آکر ختم ہوا اس ایجنڈے میں آئیٹم زیادہ تھے اور ایک اجلاس میں وہ ختم نہیں ہو سکتے تھے۔ میںہر مسئلہ بارے اپنی رائے بیان کرتاہوںمثلاً طلاق کا مسئلہ آیا تو اُس میں ہم نے اپنا خالی اختلافی نقطہ نظر نہیں دیا، بلکہ اُس پر پوری تحقیقی بحث لکھ کر دی، حد بلوغ کا مسئلہ آیا کہ بچوں سے مشقت لینے کا حکم کیاہے؟تو اُس میں بلوغ کے حوالے سے بحث کرناتھی کہ کس سن کو بچہ بالغ ہو جاتا ہے، تو اُس بارے میںمَیںنے اپنی رائے بھی دی اور اُس پر ایک تحقیقی نوٹ بھی دیاجس میں دوسرے مسالک کی رائے بھی دی۔ اسی طرح زکوٰة کے جو مسائل آئے جیسے میں نے پہلے کہا ہے کہ ریسرچ والوں نے فقط آئمہ اربعہ کے حوالے سے تحقیقی بحث تیار کی تھی تو ہم نے باقاعدہ ایک مفصل بحث زکوٰة، خمس اور فطرہ کے بارے مذاہب خمسہ کے مطابق تیار کی جو80 ،90 صفحات پر مشتمل ہے اس کی کاپیاں تمام اراکین کو مہیاکی گئیں۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ میں جو بھی بحث تیار کرکے اجلاس میںدے دیتا ہوں فقہ جعفری تو اُس میں ہوتی ہے اوروہ بحث مستدل ہوتی ہے اُس کے لئے پورے دلائل دیئے جاتے ہیں لیکن اُس کے بعد آئمہ فقہ کی آراءکو اُن کے کتب سے اُن کے دلائل بھی مَیں فقہ جعفری کے ساتھ دیتا ہوں۔ اس لئے میں نے زکوٰة اور خمس اور فطرہ کا جو مسودہ تیار کیا تو اُس میں مذاہب خمسہ کے مطابق کیا اور جس کو بڑا پسند کیا گیا۔ اور اسی طرح مو¿لفہ قلوب کی بحث تھی اُس پر کافی بحث ہوئی تو اُس کے لئے میں نے ایک علیحدہ تحقیقی بحث تیار کرکے دی۔ابھی مثلاً حج میں محرم کو ساتھ لے جانے کا مسئلہ ہے، رویت ہلال کا مسئلہ ہے اور مختلف دوسرے مسائل ہیں بہرحال ایجنڈے میں جتنے بھی مسائل آئے ہیں ان کے بارے اپنا نقطہ نظرپوری تحقیق سے تیار کر کے دیا جاتا ہے دوسرے مسالک کی رائے کو بھی بیان کرتے ہیں۔

سوال: ماشاءاﷲ آپ نے وضاحت کے ساتھ کمیٹیوں کے بارے تفصیلات بتائیں، اب سوال یہ ہے کہ ایک سال ہو گیا آپ کونسل کے اندر بیٹھے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جس مقصد کےلئے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی تھی وہ مقصد واقعتاً حاصل ہو رہا ہے؟

جواب: دیکھیں پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ جتنے بھی قوانین ہیں وہ قرآن اور سنت کے مطابق بنائیں جائیں گے، اور مسلمانوں کے جتنے فرقے یہاں پر ہیں اُن کے مسالک کے مطابق اُس کی تشریح ہو گی۔ اور اُس کے لئے یہ اسلامی نظریاتی کونسل بنی کہ وہ جائزہ لیں گے کہ اسمبلی میں جوقانون پاس ہوا ہے وہ قانون اسلام کے منافی تو نہیں ہے، اگر اسلام کے منافی ہو تو یہ اسمبلی کو بھیج دیں گے کہ یہ قانون اسلام کے منافی ہے۔ یہ تو یہ ہے آئینی صورتحال، لیکن جوکچھ اب تک عملاً ہوا ہے تو یہ ایک مشاورتی ادارہ ہے یہ ادارہ خود قانون سازی نہیں کر سکتا، قانون سازی کرنی ہے صوبائی اسمبلیوں نے، قومی اسمبلی نے اور سینیٹ نے اُن کے بنائے ہوئے قوانین پر نظر رکھنا اس ادارہ کا کام ہے۔ کہ اگر کوئی قانون اسلام کے خلاف ہے تو یہ بتائیں گے کہ یہ فلاںقانون اسلام کے خلاف ہے اس کے بارے تجدید نظر کریں اور یہ اس ادارہ کے ارکین ایک سفارش بنا کر اسمبلی کوبھیج دیں گے کہ اس کے مطابق آپ قانون بنائیں۔ قانون بنانا اسمبلیوں کا کام ہے اگر وہ نہیں بناتے اورپھر وہی قانون رہتا ہے تو یہ دوبارہ بھی بھیج سکتے ہیں البتہ ایسا ہوا نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ آئینی ادارہ ہے اور آئین میں اس کو یہ حق ہے کہ یہ خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور اُس کی تجدید نظر کا کہے، اور پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے اگر اسمبلی پھر وہی طریقہ کرتی ہے تو اُس کے بعد کوئی بھی شہری سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی نے فلاں قانون پاس کیا ہے جو کہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔ اور اس کی طرف اسلامی نظریاتی کونسل نے متوجہ کیا ہے پھر اسمبلی نے اسے تبدیل نہیںکیا۔تو اُس پر کوئی نوٹس لیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملاً ایسا کبھی ہوا نہیں ہے یہ میرا اپنا خیال ہے کہ ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ آئین کی حفاظت اور اُس پر نظر رکھنا کہ کوئی کام آئین کے خلاف تو نہیں ہو رہا روزانہ آئینی پٹیشنیں آئی ہوئی ہوتی ہیں سپریم کورٹ میں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ فلاں قانون جو پاس ہوا ہے وہ آئین میں جو کہا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق ہو تو اُس طرح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ نے جو سوال کیا ہے کہ اس کا مقصد پورا ہوا ہے یا نہیں۔ اس کا مقصد پورا ظاہر ہے اس لئے نہیں ہو رہا اور اس کے فوائد جو ہیں نیچے تک نہیں جا رہے کہ حکومتیں نہیں چاہتی کہ اسلامی قوانین بنائے جائیں۔ میں آپ کو بھی بتادوں کہ جو معاشرتی قوانین ہیں زیادہ تر اسلام کے مطابق ہیں اسلام سے متصادم نہیں ہیں، بہت کم ایسے قوانین ہیں جو اسلام کے متصادم ہیں اور اُس میں بڑا مسئلہ فیملیز لاز کا ہے، فیملی لاز ایک آمر ایوب خان کے آرڈیننس کے ذریعے لاگو ہوا 1962ءمیں اور ابھی تک وہی چل رہا ہے۔ جبکہ اس آرڈیننس کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل بار بار کہہ چکی ہے کہ اس میں بعض شقیں ایسی ہیں جو خلاف اسلام ہیں بلکہ ضیاءالحق کے دور میں کی جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں اُن میں بھی یہ بات موجود ہے اور میں نے جو لیٹر لکھا ہے اُس میں اُس کا حوالہ موجود ہے جو میں نے چیئرمین کو لیٹر لکھا ہے اور صدر زراری صاحب کو بھی لکھا ہے۔ اُس میں بعض شقیں ہیں جو فقط فقہ¿ جعفریہ کے منافی نہیں، فقہ حنفی کے منافی بھی ہیں اور اہل حدیث کے نظریہ کے منافی بھی ہیں اور ضرورت ہے کہ اُن میں تبدلی لائی جائے بلکہ ضیاءالحق کے دور میں تو وزارت قانون نے یہ لکھا تھا کہ یہ آرڈیننس اسلام کے چہرے پربدنما داغ ہے اور وہ الفاظ آپ دیکھ سکتے ہیں نوٹ کر سکتے ہیں اور وزارت مذہبی امور نے بھی لکھا تھا۔ میں نے تو صدر زرداری کی خدمت میں یہ لیٹر بھیجا، لیٹر پتہ نہیں اُن تک پہنچا بھی ہے یا نہیں لیکن دفتر میں تو پہنچ ہی گیا ہو گامیںنے انہیںلکھا کہ جس طرح پیپلز پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے پاکستان کو ایک اسلامی آئین دیا ہے73ءکا، اور بہت سارے اچھے کام پیپلز پارٹی کے کھاتے میں گئے ہیں جیسے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ، پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ، وزارت مذہبی کی تشکیل، اور بہت سارے اسی طرح کے کام ہیں کہ اگرچہ پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈہ تو بہت ہے اور اُن کو ایک غیر دینی جماعت اور غیر اسلامی جماعت، ظاہر ہے وہ ایک دینی جماعت تو ہے نہیں، وہ سیاسی جماعت ہے لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہر سیاسی جماعت نے پاکستان کو لُوٹا بھی ہے اور پاکستان کو نقصان بھی دیا ہے لیکن اصل دیکھنا یہ ہے کہ کون سی سیاسی جماعت نے بعض ٹھوس اور بنیادی فیصلے آئینی حوالے سے پاکستان کے لئے کئے ہیں تو اُس کا جب جائزہ لیتے ہیں توپیپلز پارٹی کے حق میں باتیں زیادہ جاتی ہیں ہم یہ نہیںکہتے کہ دوسری جماعتوں نے کام نہیں کئے ہیں، ابھی اس دور میں بڑی افراتفری کے دور میں این آر او کا مسئلہ، یہ جو این آر او کا مسئلہ، اپنے کیس معاف کروانا، تو مسلم لیگ نے بھی اپنے کیس معاف کرائے، کس اسمبلی کے ممبر نے اپنے فوجداری کیس معاف نہیں کروائے، اپنے زرعی بینک کے قرضے معاف نہیں کرائے؟ یہ تو ایک سسٹم کی خرابی ہے اور سسٹم بدلنے کی ضرورت ہے، یہ سسٹم خراب ہے جو بھی ہے اُسی سسٹم میں مختلف حکومتیں آئیںکبھی مسلم لیگ کی حکومت آئی ہے کبھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہے کبھی فوجی کی حکومت۔ فوجی حکمرانوں کے حوالے سے میری رائے ہے کہ اُن کے دور میں ڈویلپمنٹ کے کام بہت ہوئے، جبکہ سیاسی جماعتوں کے دور میں ڈویلپمنٹ کے کام بہت کم ہوئے ہیں۔ اس کا بے شک جائزہ لے لیں چاہے ایوب کا دور ہو ضیاءالحق کا دور ہو یا مشرف کا دور ہو۔ کیونکہ ایک چیز ریئیل ہے کہ فوجی بھی پاکستان کے شہری ہیں اور اُن کے ادوار میں جو کام ہوا ہے اُسے دیکھا جا سکتا ہے اگر تقابل کیا جائے تو، لیکن سیاسی جماعتوں میں آئینی کام اور دستور پاکستان کے حوالے سے اور آئین پاکستان کو دینا اور جمہوریت کا فروغ اور تمام تر خرابیوں کے باوجود اور ان کی آپس کی لڑائیاں سیاسی جماعتوں کی اور سیاسی گھپلے اور کرپشن اس سارے ماحول میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے بعض بڑے ٹھوس کام کئے ہیں ان میں 73 ءکے آئین کا پاس ہونا اور اسلامی ہونا اور اسلامی نظریاتی کونسل کا وجود اور وزارت مذہبی امور۔ اس دور میں 18ویں ترمیم، باقی ادوار بھی تو گزرے اُن میں کیوں صدر کے اختیارات کا سلسلہ ختم کیا اور یہ پھر19ویں ترمیم اور سارے صوبوں کو NFCایوارڈ گلگت کو کبھی بھی کسی نے اُن کو حق ہی نہیں دیا تو اُنہوں نے ایک قدم اُٹھایاہے۔ اگرچہ یہ فوجیوں کے دور میں کام شروع ہوا، سیاسی جماعتوں کے دور میں شروع نہیں ہوا، فوجیوں کے دور میں شروع ہوا لیکن اُس کی تکمیل کا ایک مرحلہ آگے بڑھ کر اس دور میںپورا ہوا۔ اور ابھی صوبوں کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے اس کو بھی اگر آئینی طریقے سے یہ جماعت کر جاتی ہے تو پھر اس کے کھاتے میں ایک اور کریڈٹ بھی آجائے گا تو اس جگہ میںجو بات کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے صدر پاکستان کو لکھا کہ ایک آمر نے ایک ایسسا آرڈیننس نافذ کیا جو غیر اسلامی ہے اور پیپلز پارٹی کے صدر نے آکے اس آرڈیننس کی شقوں میں ترمیم کر دی،جسے ضیاءالحق نہیں کر سکا، بڑا اسلام کا چیمپیئن تھا اس دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کام بھی بہت زیادہ ہوا مصر کے بعض دانشور جیسے ڈاکٹر دوایسی پیر صاحب بھی یہاں رہے نظام مصطفیٰ کی تحریک کے وارث وہ بنے رہے لیکن وہ اس غیر اسلامی آئین کو نہ بدل سکے۔ اصل میںایک خوف دلایا جاتا ہے صدر کو یا اُس پارٹی کے سربراہ کو کہ اگر آپ نے اس کو چھیڑا تو اس سے خواتین کے حقوق کا مسئلہ اُٹھ جائے گا، ایسا کچھ بھی نہیںبلکہ خواتین کے حقوق کا اور تحفظ ہو گا اس وقت خواتین ذلیل ہو رہی ہیں اس آرڈیننس کی وجہ سے ان کی پریشانیاں بہت زیادہ ہیں کیونکہ لوئر عدالتوں میں اُسی فیملی لاءکے مطابق خواتین کے لئے مسائل ہیں۔ اس لئے پیپلز پارٹی کو بہت بڑا کریڈٹ جائے گا اور اُنہیں چاہیے بے شک علماءکے ساتھ اپنے ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ میٹنگ کرا لیں کیونکہ اسلامی نظریاتی کونسل ریاستی ادارہ ہے اور یہ براہ راست صدر کے انڈر ہے ، صدر کو چاہیے کہ اس سے براہ راست فائدہ اُٹھائیں یہ ادارہ وزارت مذہبی امور کا ذیلی ادارہ نہیں ہے۔ جس طرح سپریم کورٹ ہے ، سپریم کورٹ وزارت قانون سے ریلیٹڈ ہوتی ہے ، اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل وزارت مذہبی امور سے ریلیٹڈ ہے مگر یہ آئینی ادارہ ہے اور مستقل ادارہ ہے اور صدر کے انڈر ہے اور اس کی جو سفارشات ہیں وہ وزارت مذہبی امور میں نہیں جاتیں، وہ سفارشات براہ راست اسمبلی میں جانا ہوتی ہیں تواگر وہ یہ ایک کام کر لیںیہ ان کے فائدے میںہے جو آپ نے کہا نا مقصد پورا ہوا یا نہ ہوا، تو مقصد تو ظاہر ہے پورا نہیں ہو رہا، ظاہر ہے حکومت ساتھ نہ دے تو اسلامی نظریاتی کونسل تو صرف نشاندہی کر سکتی ہے دوسرا کام یہ ہوتا ہے کہ تجاویز بھیج سکتی ہے اور تیسرا یہ ہے کہ اس کواوپرسے لکھ بھی سکتے ہیں کہ وزارت قانون کو کوئی اسلامی رائے معلوم کرنی ہے اور پرابلم کھڑا ہو گیا ہے وہ لکھ سکتے ہیں سپریم کورٹ انہیں لکھ سکتی ہے جیسا کہ انہوں نے کہ اس بارے میں رائے مانگی کہ وہ مسئلہ آگیا تھا کہ وہ بچے جو ولد الزنا حرامی ہوتے ہیں، شناختی کارڈ میں کیا لکھا جائے ۔ اس بارے میں فیصلہ کیا گیا جو کہ محفوظ ہے۔ تو یہ ہے کہ جو مقصد پورا نہیں ہو رہا دوسرا یہ ہے کہ جو سابقہ ادوار میں ضیاءالحق کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے قانون کے حوالے سے بہت کام کیا لیکن زیادہ عمل نہیں ہو سکا، اسی زمانے میں شریعت کورٹ بنائی گئی اور جو سود کی بحث چلی ہوئی ہے اُس کے حوالے سے بھی آراءوغیرہ آئیں لیکن وہ کیس شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ یہ مقصد تب پوراہو گا جب حکومت چاہے۔ اور اسمبلیاں قوانین اسلامی بنانے کےلئے ان کی سفارشات پر عمل کریں۔ پچھلے جو ادوار تھے اُن میں سال میں چار اجلاس ہوتے تھے اور زیادہ تر وہی، کیونکہ ان کی حیثیت ایم این اے اور سینیٹر کی حیثیت ہے TDAبھی مل گیا تنخواہ بھی مل گئی اور سال میں چار اجلاس کئے باقی جو بیورو کریٹس بیٹھے ہیں اُنہوں نے رپورٹیں لکھ لکھ کر بھیج دیں۔ موجودہ چیئرمین نے کہا کہ یہ جو ہم پیسے لیتے ہیں، ہمیں حرام نہیں کھانا چاہیے اور علماءسے بھی کہا کہ آپ جب پیسے لے رہے ہیں اور آپ خود علماءدین بھی ہیں تو آپ کو زیادہ دلچسپی سے کام کرنا چاہیے اور اگر پیسے نہ بھی ملتے توبھی ہمیں کام کرنا چاہیے تھا۔ اور اس موجودہ چیئرمین نے جو ایک اہم کام کیا ہے وہ یہ کیا ہے کہ اس کا جو آئینی رول ہے اس کو زندہ کیا ہے اور آئین نے جو حیثیت اسے دی ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی، اُس حیثیت کو بحال کیا ہے مثلاً سہولتیں ایک سینیٹرز اور ایم این اے کی تھیں وہی سہولتیں اپنے ممبران کے لئے حاصل کی ہیں جیسے سیاسی پاسپورٹ، ہیلتھ، اور اسی قسم کی اور چیزیں چیئرمین کی حیثیت کی بحث ابھی جاری ہے اگرچہ حکومت نے اُن کو سٹیٹ وزیر کا درجہ دیا ہے لیکن وہ کونسل نے قبول نہیں کیا، کیونکہ ان کی حیثیت چیئرمین سینیٹ کے برابر یا سپیکر قومی اسمبلی کے یہ مطالبہ بھی کونسل کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور اس پر لکھا بھی گیا ہے کہ جو سفارشات ہیں اُس کی اجازت دی جائے کہ یہ چیئرمین جا کر اسمبلی میں خود وہ سفارشات پیش کریں تاکہ اس کا کوئی میکنزم بنے یہ خالی دفتروں میں نہ پڑی رہیں۔خزانہ خرچ ہو رہا ہے اتنا اس کا عملہ ہے 100 یا 150 مجھے تعداد کنفرم یاد نہیں ہے اور یہ خزانے پر بوجھ ہے کیونکہ یہ آئینی ادارہ ہے اس سے استفادہ کیا جائے، اور استفادہ جو ہے وہ ظاہر ہے حکومت نے ہی کرنا ہے اور اسی طرح اُس کا طریقہ ہے۔

سوال: آپ کی موجودگی کے اس ایک برس میں کتنی تجاویز پارلیمنٹ کو ارسال کی گئی ہیں؟ قانونی سفارشات کے معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

جواب: ابھی تک کوئی ایسی چیز پارلیمان میںتو نہیں گئی، اب چونکہ بحثیں مکمل ہو چکی ہیں اب اس کی سفارش تیار ہو کر جائے گی، کیونکہ زکوٰة کے بارے میں پچھلی کونسل میں کچھ فیصلے ایسے ہو گئے جن فیصلوں پر فقہ حنفی کے پیروکاروں کو اعتراض تھا، تو اُس کی تبدیلی لانے کےلئے کافی بحث ہوئی تین اجلاس اُسی میں رہے اور باقی جو بحثیں ہوتی رہیں اُس میں انتظامی حوالے سے بحثیں رہیں کچھ ایسی بحثیں تھیں جو وزارت مذہبی امور نے مانگی تھیں جو اُن کو بھیج دی گئیں لیکن باقاعدہ جو قانون سازی کےلئے سفارش جانی ہے وہ آخری اجلاس میں جو چیزیں فائنل ہوئی ہیں وہ اُنہوں نے اسمبلی میں بھیجنا ہے فیصلہ یہی ہوا ہے کہ براہ راست اسمبلی کو بھیجا جائےگا اور نیز یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ کچھ ایسے مسائل اسمبلی میں جو ممبران موجود ہیں اُن کے ذریعے ایک بل کی شکل میں پیش کئے جائیں تاکہ اُن پر غور کیا جائے گا۔

سوال: آپ نے بتایا کہ آپ نکاح اور طلاق کے معاملات پر خصوصی کام کر رہے ہیں اس میں ایسی تجاویز جو ہمارے قارئین کے لئے فائدہ مند ہوں، مختصراً بیان کر دیجئے۔

جواب: ایک ہی مجلس میں اگر کسی نے یہ کہہ دیا کہ طلاق طلاق طلاق۔ تو بیوی ایک کی بجائے تین طلاقیں اُس کی ہو گئیں اور ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی۔ تو اس بارے میں بحث کی گئی کہ اس طرح تین طلاق نہیں ہو سکتیں یا مثلاً ایک فیصلہ لکھا گیا ہے کہ ایک خاتون نے طلاق کا تحریری مطالبہ کیا ہے نوے دن تک اگر اُس کو طلاق نہ دی گئی تو خودبخود طلاق ہو جائے گی اس بارے بحث ہوئی ہے ہم نے فقہ جعفریہ کے مطابق طلاق کی اپنی شرائط ہیں۔ البتہ اہل سنت کے ہاں بھی اس طرح کی طلاقیں تین شمار نہیں ہوتیں اس کے لئے باقاعدہ کتاب موجودہے۔ ابھی جاوید چوہدری صاحب نے ایکسپریس میں "لائیو طلاق" کے نام سے ایک آرٹیکل شائع کیا ہے یہ کتاب جو ہے یہ مجموعہ¿ مقالات علمیہ، ایک مجلس کی تین طلاقیں، یہ کارروائی ہے سیمینار کی یہ سیمینار ہوا ہے انڈیا میں اور یہ کب ہوا ہے یہ ہوا ہے جناب 1973ءمیں۔ اس میں اہل حدیث، حنفی علماءاور جماعت اسلامی کے امیر، دیگر افراد کی مفصل بحثیں ہیں کہ یہ جو طریقہ ہے کہ زبان سے کہہ دیا، پتھر پھینک دیئے تین، اس طرح عورتوں کو فارغ کرنا، نکاح ایک معاہدہ ہوتا ہے اور معاہدہ اس طرح نہیں ختم ہو جاتا ، تو اس پر ہم نے اپنے فقہ جعفری کے مطابق ہی رائے دے دی ہے۔ اور ہمارے ہاںتو بہت واضح اور کلیئر ہے اور دوسروں کے مطابق بھی۔ سعودی عرب کے مفتی سے کسی نے سوال کیا کہ میری بیوی میرے کہنے کے بغیر بازار جا رہی ہے تو میں نے کہا کہ جاﺅ تمہیں طلاق دے دُوں گا تو پھر دوبارہ بھی اسی طرح ہوا اور پھر اُس نے کہا طلاق ہو گئی۔ تو اس پر اُس نے جو لکھا ہے تو میں نے کونسل کے اجلاس میں ممبران کو متوجہ کیا جائے کہ اس پر بحث کریں، البتہ اس پر بحث ہونی ہے تاکہ یہ جو مبتلاءبہ مسئلہ ہے واضح ہو جائے کہ ایک معاہدہ جومرد عورت کے درمیان عورت، مرد کا ہمیشہ کی زندگی گزارنے کامشاہدہ ہوتاہے اگر انسان غصے کی حالت میں طلاق کہہ دیتا ہے بھول کر اسی طرح طلاق کہہ دیتا ہے تو اس طرح طلاق تھوڑی ہو جاتی ہے اس کی باقاعدہ شرائط ہیں جو چھوٹے اور کم پڑھے لکھے مولوی صاحبان ہیں، اور میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی بھی مسلک میں ایسا نہیں ہے کہ ہندو مر گیا تو اس کے جنازے میں چلے گئے تو آپ کی بیوی طلاق ہو جائے گی، اب یہ تو چھوٹی مسجدوں والے فتویٰ دیتے رہتے ہیں کہ فلاں فرقے کے جنازے میں گئے تو بیوی طلاق ہو جائے گی، فلاں کی مجلس جا کر سن لی تو بیوی طلاق ہو جائے گی، فلاں کے پیچھے نماز پڑھ لی تو بیوی طلاق ہو جائے گی، تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نکاح تو معاہدہ ہے اور یہ معاہدہ ایسے نہیں ٹوٹ جاتا۔ اس مسئلہ کو میں نے کونسل میں دے دیا ہے اگلا ایجنڈا ہو 188واں اجلاس ہو گا جولائی میں تو اس پر بحث ہو گی۔ لیکن یہ بحث ہمارے مسلک میں تو بہت کلیئر ہے۔

سوال: کیالوگوں کے گھر اُجاڑنے کے فتوے دینے والے علماءکے خلاف بھی قانون سازی کےلئے آپ سفارشات دیں گے، اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے، یعنی جو معاشرے میں افراتفری کا باعث بن رہے ہیں، طلاق نہیں ہوتی ایک ایشو کلیئر ہو گیا، اور جو اس طرح کی طلاقیں بانٹ رہے ہیں ملاً حضرات، اُن کی روک تھام کےلئے بھی کوئی تجویز ہے؟

جواب: ظاہر ہے میں تو تجویز دُوں گا جب بحث آئے گی، لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ یہ اسمبلی کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو آنا چاہیے یہ وزارت مذہبی امور لکھے کہ اسلامی نظریاتی کونسل اس سلسلے کو روکنے کےلئے ہماری رہنمائی کرے اور اس کے لئے کوئی مسودہ بنا کر بھیجے تو وہ بڑا آسان ہو جائے گا میں تو خیر اپنی بحث میں اس چیز کو اُٹھاﺅں گا کہ یہ سلسلہ روکنا چاہیے اور اس کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ایک قرارداد پاس کریں گے کیونکہ یہ مفتی یا فتویٰ دینے کا ادارہ نہیں ہے اسلامی نظریاتی کونسل ایک رہنمائی دیتا ہے تجویز دیتا ہے۔ معاشرے کی وحدت کو جو توڑنے کا سبب بن رہا ہے یا افتراق ایجاد ہو رہا ہے تو اس کونسل کا حق ہے کہ بات کرے۔

سوال: آپ نے بہت تفصیل سے بتایا کہ آپ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی اور اُن کے کام کے انداز سے متاثراورمطمئن ہیں دیگر جو وہاں شریک کونسل کے ممبران ہیں اُن میں سے کس شخصیت کے تحقیقی کام سے آپ متاثر ہوئے؟

جواب: اس میں جو چیئرمین صاحب کا ہے وہ بالکل اصل مسئلہ ہے اُنہوں نے اس میں رُوح ڈالی ہے یہ بے جان قسم کا ادارہ تھا اُس میں رُوح ڈالی ہے پچھلے دو سال میں، البتہ میرے آنے سے پہلے دو سیمینار بھی کئے جن میں اُس میں تمام مسالک کے علماءبلائے اور ایشوز جو ملک کے اندر ہیں خاص کر برداشت عدم برداشت یا ایک دوسرے کی بات سننا یا یہ جو جہاد ہر بات پر جہاد کا مسئلہ پیش کیاجاتاہے اس پر بھی ڈسکس کرائی اسی طرح غیر ملک کا دورہ بھی ترکی کا کونسل والے کر چکے ہیں اُس سے پہلے بھی بعض ممالک میں گئے ہیں۔ یہ جو آپ نے فرمایا کہ اراکین جو کام کررہے ہیں اُس میں ظاہر ہے ہر مسلک کا جو عالم ہے وہ اپنے مسلک کے مطابق ہی تحقیق کر کے آتا ہے۔ اُس میں جو تحقیق کا انداز رہا حنیف جالندھری کا، غلام صدیق ہزاروی صاحب اور مفتی ابراہیم کا اور جسٹس نذیر احمد ہیں وہ مسائل کو بڑے دقیق نظر سے لیتے ہیں اُنہوں نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ کاکا خیل ہیں فیروز کاکا خیل مختلف مسائل کونسل کے دستور بارے اُٹھاتے ہیں اور بہت دلچسپی لیتے ہیں آئینی نکات اُٹھاتے ہیں۔ فضل علی کا بھی بہت کردار ہے بہرحال سارے ہی وہ ہیں جو ہر موضوع پر لکھ کر بھیجتے ہیں لیکن اس پر افسوس ہے کہ جتنے بھی ہمارے علماءاور اراکین ہیں اُنہوں نے جو بھی لکھا وہ فقط اپنے مسلک کے مطابق لکھا لیکن اُنہوں نے کبھی شیعہ مسلک کی رائے کو نہیں لیا، اس کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ فقہ جعفری کی کتب کی عدم موجودگی شاید زیادہ دخیل ہو اور بعض ایسے ہیں جن کے کتاب خانوں میں یقینا شیعہ کتب موجود ہیں لیکن اُنہوں نے بھی ضرورت محسوس نہیں کی، میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں جو چیز دُوں، جہاں میں فقہ جعفری کے مطابق بیان کروں وہاں میری کوشش ہوتی ہے کہ میں دوسرے مسالک کے بزرگان اور اُن کے آئمہ کی آراءکو بھی لے آﺅں کیونکہ میری اپنی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور جب یہ چیز شائع ہو گی تو جو قارئین ہیں اُن کے لئے بھی آسانی پیدا ہو گی۔

سوال: جناب نے ابتداءمیں بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں آپ واحد شیعہ عالم دین ہیں تو اس سلسلے میں تجاویز دیں گے کہ اور کتنے ہونے چاہئیں؟ کیااس نمائندگی سے آپ مطمئن ہیں یا آپ کے خیال میں مزید نشستوں کی ضرورت ہے؟

جواب: دیکھیں اس میں کسی مسلک کے لئے یہ طے نہیں ہے کہ کس مسلک کی کتنی سیٹیں ہوں گی، اس کے کم از کم آٹھ ارکان ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ بیس، اور اُن آٹھ ارکان میں 4 علماءکا ہونا ضروری ہے، یعنی بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ۔ دیوبندی اور بریلوی ایک ہی فقہ ہے وہ فقہ حنفی ہے اور اہل حدیث غیر مقلد اور شیعہ جو ہیں فقہ جعفری سے ہیں۔ درحقیقت تین بن جاتے ہیں کیونکہ یہاں پر پاکستان میں یہ مسلمان ان چار فرقوں میں ہیں تو ہر فرقہ کا ایک عالم ہوتاہے جن کی شرط یہ ہے کہ کم از کم اُن کا پندرہ سالہ تدریسی فقہ کا تجربہ ہو یعنی وہ اپنے فقہ کے بارے میں آگاہی رکھتے ہوں، اور اُس کے بعد دو جج چاہیے وہ آن ڈیوٹی ہوں یا ریٹائرڈ، اور ایک خاتون اور ایک اور۔ یعنی یہ آٹھ کم از کم چاہیے۔ جب تک آٹھ نہیں ہوں گے کونسل کا اجلاس آئینی نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد باقی اراکین، چونکہ مختلف شعبہ جات سے لیتے ہیں اور چیئرمین جو ہوتا ہے وہ انہیں اراکین میں سے ہوتا ہے اور چیئرمین کوبھی صدر نامزد کرتا ہے اور ان کی نامزدگی کا طریقہ کارجو اسلامی نظریاتی کونسل کا تعارف دیکھیں گے اُس میں درج ہے۔ اس لمبے عرصے میں بعض دفعہ 3 شیعہ نمائندے بھی رہے اور بعض دفعہاکثر دو رہے۔ اس وقت صورتحال جو ہے وہ دیوبندی مسلک کے افراد تعداد میں زیادہ ہیں اور اہل حدیث علماءمیں فقط ایک عالم موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم ہر مسلک کے دو بندے تو ہوں، یعنی جب بیس ارکان بن رہے ہیں تو بیس ارکان میں ایک اور بھی اُس مسلک کا ہو کیونکہ اگر ایک عالم موجود نہیں ہوتا تو اس مسلک کی نمائندگی کرنے والا دوسرا موجود ہونا چاہیے اور اُس میں یہ بھی ضروری ہے کہ جس مسلک کے فرد کو یہاں بھیجا جا رہا ہے اُس میں خالی اُس کا نام نہ دیکھا جائے وہ اُس مسلک کا مستند عالم ہو۔ وہ اُس مسلک کا بڑا خطیب یا بڑا مقرر یا اس کا سیاسی عنوان نہ دیکھاجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ اپنے مسلک کا مستند عالم ہو اب گیارہ ارکان ریٹائرڈ ہوئے ہیں چھ مئی کو، تو گیارہ اراکین نئے نامزد ہونے ہیں۔ تو اُس میں ہماری درخواست ہے کہ شیعہ سے اچھے علماءہیں اُس میں لائے جائیں اس میں ہماری خواہش ہے کہ اُس کےلئے نام بھی مختلف لوگوں نے بھیجے ہوئے ہیں تو ہمیں توقع ہے دو اور افراد نامزد ہو جائیںگے البتہ یہ صدر کے حوالے ہے اور جو لوگ اس پارٹی سے وابستہ ہیں وہی اس سلسلے میں کام کریں گے ہماری خواہش ہے اور کوشش بھی ہے کہ ایسا ہو جائے۔

سوال: علامہ افتخار نقوی جیسی شیعہ قوم کی قدآور علمی شخصیت ایک سال کے تجربے کے بعد اپنے مختصر الفاظ میں کس طرح کی اسلامی نظریاتی کونسل چاہتی ہے؟

جواب: دیکھیں اسلامی نظریاتی کونسل میں ایسے افراد ہونے چاہیں جو اسلام سے آگاہ ہوں۔ اور وہاں جج بھی ایسے لائے جائیںجن کا ماضی بے داغ ہو اور وہ دین اسلام کے قوانین پر ایمان رکھتے ہوں۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا جو آئینی کردار ہے اُس آئینی کردار کو حکومت اُسے تسلیم کرتے ہوئے اُس سے استفادہ کرے۔

سوال: آپ نے شروع میں کہا بڑا خوبصورت ماحول ہے، بڑی اعتماد کی فضاءہے، تمام مکاتب فکر کے علماءایک دوسرے کے ساتھ احترام کے ساتھ اور بہت خوبصورت انداز سے تحقیق میں مشغول ہیں، ہمیشہ اوپر کی سطح پر تو ہمیں اتحاد و اتفاق اکثر دکھائی دیتا ہے لیکن نچلی سطح پر معاشرے میں اور علماءمیں اس چیز کو پھیلانے کےلئے آپ کیا تجویز کریں گے کہ معاشرے میں جو کشیدگی ہے تناﺅ ہے نفرت ہے اُسے ختم کرنے کےلئے علماءکو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے حکومت کو چاہیے کہ جو اختلاف اور افتراق کی فضاءملک کے اندر ہے اُس کو ختم کرنے کےلئے اور کم کرنے کےلئے اس پلیٹ فارم سے فائدہ اُٹھائیں ، اُس کے لئے اس پلیٹ فارم پر علماءکے سیمینارز ہونے چاہیں۔ جب تمام مسالک کے بڑے بڑے علماءیہاں آکر بیٹھیں گے اور جیسے کہ ایک سیمینار کیا گیا مگر وہ ایک سیمینار کافی نہیں ہے ، سال میں دو تین سیمینار ہونے چاہیں اور مختلف جگہوں پر ہونے چاہیں۔ اور کونسل کے پلیٹ فارم سے ہونے چاہیں اس کے لئے بجٹ کی ضرورت ہے اسلامی نظریاتی کونسل کا بجٹ کم ہے جو کچھ ہمارے چیئرمین صاحب چاہتے تھے وہ نہیں کر سکے کیونکہ ہمارے چیئرمین چاہتے تھے کہ ہر مہینے اجلاس ہو لیکن اُنہیں ہر مہینے اجلاس ختم کرنا پڑا اور دو مہینے بعد اجلاس کرنا پڑا تین مہینے بعد اجلاس کرنا پڑا اُس کی وجہ یہ ہوئی کہ جو بیورو کریٹ وہاں بیٹھے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ بجٹ نہیں ہے اور بہت سارا پیسہ تو بیورو کریسی پر ہی خرچ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جو کام کرنے والے ہیں مختلف شعبے ہیں تنخواہیں ہیں حکومت کو ہم نے لکھا ہوا بھی ہے، اور اس میں ہمیں افسوس بھی ہے کہ یہ ادارہ تو صدر صاحب کا ہے لیکن صدر صاحب نے اپنے ادارے کے اراکین سے ملاقات بھی نہیں کی حالانکہ اُنہیں چاہیے تھا کہ اولین فرصت میں ان سے ملاقات کرتے ان سے بات کرتے اور ان کی باتیں سنتے اور ہمارے چیئرمین صاحب نے لکھ کر بھی بھیجا ہوا ہے لیکن کونسل کے گیارہ ارکان ریٹائرڈ ہو گئے ہیں اور وہ ترستے ہی رہے کہ ہمارے صدر ہمارے ساتھ ملاقات کا وقت دیں گے اور ہم اُن کے سامنے اپنی مشکلات پیش کریں اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس ادارے کی افادیت اور اس سے فائدہ اُٹھانے کا اندازہ بھی نہیں ہے تو اس وقت ویسے تو ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے وزارت مذہبی امور میں مثلاً مختلف علماءکے اجلاس بلا لئے جاتے ہیں وہ اجلاس اتنے مو¿ثر نہیں جتنے اسلامی نظریاتی کونسل کے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل چونکہ فکری ادارہ ہے یہ دین کے معاملات میں ان کی بات سند ہے یہاں بیٹھ کر اور ان کے ذریعے جب بات ہو گی تو یہ تکفیر سازی کی مہم ہے گالم گلوچ کی مہم ہے ایک دوسرے پر فتویٰ کی مہم ہے یہ سارے سلسلے ہیں بند ہو جائیں گے حتیٰ مختلف عناوین سے جو جہادی کھاتے ہیں اور یہ جو خودکش حملے اسلام کے نام پر ہوتے ہیں اور یہ سارا اس فضاءکو تبدیل کرنے میں اسلامی نظریاتی کونسل بہت بڑا رول ادا کر سکتی ہے اگر حکومت ان سے فائدہ اُٹھانا چاہے۔ لیکن ابھی تک حکومت نے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا کیونکہ حکومت کو دوسرے کاموں سے فراغت نہیں ہوئی۔ اور خاص کر یہ جو موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کی آئی اسے تو ویسے ہی اسے ٹف ٹائم دیا گیا اور ہر وقت اسے اُلجھائے رکھا آئینی بحرانوں میں اور ابھی گری اور ابھی گئی اور خود ان کی اپنی غلطیاں بھی ہیں لیکن جو ان کے مخالف ہیں انہوں نے اپنے دور میں کم غلطیاں کی ہیں؟ ہماری خواہش ہے کہ اس سسٹم میں جو خرابیاں ہیں وہ دُور کی جائیں اور ظاہر ہے جب بار بار الیکشن ہو گا اور بار بار سلسلہ جاری رہے گا تو یہ تربیت ہوتی جائے گی اور پھر اچھے لوگ آئیں گے اور سسٹم اور نظام بھی بدل جائے گا ہماری تو یہی دُعا ہے کہ کوئی ایسے صالح افراد اسمبلیوں میں پہنچیں جو اس ملک کے استحکام کے لئے اور اس کی مضبوطی کے لئے بھی کام کریں اور اس کا نام روشن ہو اور جو مشکلات ہیں وہ حل ہوں بہرحال اسلامی نظریاتی کونسل حکومت کابڑامسئلہ حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اگر حکومت ان سے فائدہ اُٹھائے، اور وہ یہ ہے کہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی ہے اور عدم برداشت ہے اس ادارے کے ذریعے اُس کو دور کرنے میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

سوال: آپ کا اتنا بڑا نیٹ ورک ہے بہت سے مدارس اور رفاہی ادارے آپ کے زیر انتظام چل رہے ہیں، ملک گیر فلاحی منصوبوں کے باعث ، آپ کو اکثر ملکی اور غیر ملکی سفر میں ہی دیکھا گیا ہے سینکڑوں منصوبوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا علمی اور تحقیقی کام کیسے کر پاتے ہیں؟

جواب: جب میں اسلامی نظریاتی کونسل کا رُکن بنا تو ظاہر ہے اُس میں جانے کے بعد میں نے اپنے اساتیذ سے مشاورت کی کہ یہ کام اکیلے کا تو ہے نہیں، میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد کہا جائے کہ سید افتخار آئے تھے اور اُنہوں نے کچھ نہیں کیا، کچھ کر سکتے تھے۔ اس کے لئے مجھے مدد چاہیے کیونکہ یہ علمی کام ہے جو بغیر سپورٹ کے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے الحمدہمارے بزرگ ساتھی جو ملک کے اندر ہیں یا ملک سے باہر ہیںاُنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ہم اس سلسلے میں آپ کی بھرپور مدد کریں گے تو اس کے لئے میں نے انفرادی کام نہیں رکھا بلکہ اس کے لئے میں نے کمیٹیاں بنائی ہیں دو کمیٹیاں ملک سے باہر کام کر رہی ہیں اور ایک کمیٹی ملک کے اندر کام کر رہی ہے۔ ایک کمیٹی مشہد مقدس میں ہے جہاں میرے شاگرد ہیں جو کافی عرصہ سے مشہد میں پڑھ رہے تھے علمی منازل طے کر چکے ہیں اُن میں جناب مولانا عقیل حیدر زیدی صاحب ہیں جو مدرسہ امام خمینی کے پرنسپل بھی رہے ہیں اور وہاں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں قرآنیات پر تو اُن کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے اور جو بھی ہمیں یہاں پر موضوع درپیش ہوتا ہے تو اس کے لئے استخراج منابہ کرتے ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ہے کہ وہ فقط فقہ جعفری کے حوالے سے نہیں بلکہ دوسرے مسالک کے حوالے سے بھی استخراج منابع کرکے بھیجیں۔ اسی طرح کتاب نکاح اور کتاب طلاق پر یہ کمیٹی ہماری وہاں کام کر رہی ہے۔ ایک کمیٹی قم المقدسہ میں ہے، قم ظاہر ہے بہت بڑا علمی مرکز ہے وہاں پر بھی ہمارے شاگرد ہیں مولانا اقبال حسین شجاعی جو 25 سال سے وہاں ہیں اور وہاں کے مدرس بھی ہیں اُن کی زیر نگرانی ایک 6 رکنی کمیٹی بنی ہے وہ کتاب ارث پر کام کر رہے ہیں اور اس کے لئے استخراج منابع وہ کرتے ہیں۔ جو کمیٹی یہاں بنائی گئی ہے وہ ریٹائرڈ جسٹس شاہنواز اولکھ کے زیر نگرانی ہے کہ جو کچھ ہم کام کرتے ہیں اُس کو قانون کی شکل میں ڈھالنے کا کام کیا جائے۔ اور اس وقت ہمارا جو فوکس ہے وہ قانون مناکحات ہے ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ وہی بات چیئرمین صاحب نے اپنی گفتگو میں کہی تھی ہم نے اُسی سے رہنمائی لیتے ہوئے کہ جو کمیٹی اسلامی نظریاتی کونسل میں بنی وہ ظاہر ہے پوری طرح کام نہ کر سکی لیکن آئندہ وہ بہرحال کام ختم تو نہیں ہوا جاری ہے لیکن میں نے اپنے طور پر یہ کام اُسی وقت ہی شر وع کر دیا تھا کہ کتاب نکاح کی جتنی بحثیں ہیں جتنے عناوین ہیں تقریباً 200 عناوین ہیں اُن کو باقاعدہ آرٹیکل کی شکل میں پہلے ایک قانون کابیان آجائے اور اُس کے بعد اُس قانون میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اُن الفاظ کی تعریفات آجائیں گی اور اُس کی کوئی اگر ضمنی شقیں ہیں تو اُس کی ضمی شق آجائے گی اور اُس کے بعد جب یہ قانون میں استعمال شدہ بعض اصطلاحات کی تعریفات اور اس کی ضمنی شقیں اس کے بعداس قانون کے بارے میں استدلال کہ یہ جو قانون ہے فقہ جعفری کا کہ نکاح میں طرفین کی رضایت شرط ہے لڑکی باکرہ کے لئے اُس کے والد سے اجازت لینابھی ضروری ہے اگر والد نہیں ہے تو دادا سے اجازت لینا ضروری ہے اور اگر وہ نہ ہوں تو وہ بااختیار ہے۔ قانون لکھا جاتا ہے تو اس کا استدلال چاہیے اُس استدلال کےلئے ہم نے جو ترتیب بنائی ہے پہلے قرآن سے دلیل لائیں گے اُسے کے بعد حدیث نبوی کے مطابق تشریح لائی جائے گی اُس کے بعد آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی رائے لکھی جائے گی۔ رائے آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مراد یہ ہے کہ جو ہمارے آئمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں اُن کی احادیث بھی احادیث نبوی ہیں وہ راوی ہیں اپنے جد کی حدیث کے۔ وہ حضور پاک کا بیان ہی بتا رہے ہوتے ہیں تو آئمہ اہل بیتؑ کی رائے کو ہمارے مجتہد یا فقیہہ نے فتویٰ دیتے وقت جس امام کی حدیث کو بطورسندلیاہے۔روایت کا عام طور پرکہاجاتاہے کہ آئمہ نے یہ حدیث حضور پاک سے روایت کی ہے۔ مثلاً آئمہ اطہار علیہم السلام جب کوئی حدیث بیان فرماتے ہیں تو اس طرح فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بابا سے سُنا اور پھر مولا علی علیہ السلام یا ہماری اماں نے اپنے بابا سے، اس طرح وہ بیان کرتے ہیں تو جس حدیث کو اُنہوں نے قانون کے لئے لیا ہے یا اپنے فتویٰ کے لئے لیا ہے اُس حدیث کو ہم آئمہ اہل بیت ؑ کی رائے کے عنوان سے لکھ رہے ہیں اور جہاں پر کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ ایک شیعہ مجتہد نے فقہ جعفریہ کے مجتہد نے کہا ہے کہ اس فتویٰ کی دلیل یہ ہے کہ فقہاءکا اجماع ہے، تو اُس میں ہم یہ دے رہے ہیں کہ شیعہ فقہاءکا اجماع ہے کہ آئمہ اہل بیتؑ کی رائے یہ ہے اور جہاں مجتہد نے یہ کہا ہے کہ شیعہ فقہاءکے ہاں مشہور یہ ہے اس لئے میں یہ فتویٰ دے رہا ہوں تو وہاں ہم لکھ رہے ہیں کہ شیعہ فقہاءکے ہاں مشہور یہ ہے کہ آئمہ اہل بیتؑ کی رائے یہ ہے۔ جب ہم یہ بیان کر دیں گے تو اُس کے بعد کوئی نظائر ملتے ہیں امیر المومنین ؑکے زمانے کے تو وہ دیں گے اُس کے بعد عدالتوں کے فیصلہ جات ہیں ایسے فیصلے جو اس قانون کے موافق ہوئے ہیں ہماری ملکی یا بین الاقوامی عدالتیں اُن کو دے دیں گے اُس کے بعد آئمہ اربعہ جو ہیں فقہاءاربعہ احمد حنبل، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام مالک۔ اُن کا اگر کوئی فیصلہ اس قانون کے مطابق ہے تو اُس کو وہاں درج کریں گے یہ کرنے کے بعد آخر میں فقہ جعفری کے مخالف اگر قانون ہے فقہ حنفی کا تو وہ دے دیں گے کہ فقہ حنفی کے ہاں یہ قانون اس طرح ہے، یہ ہم اس پر تیاری کر رہے ہیں کتاب مناکحات قانون کی کتاب آجائے گی اس کو بیک وقت انگریزی اور اُردو میں تیار کریں گے اور ہماری کوشش یہ ہو گی کہ اس کے مطابق سفارش تیارکی جائے، کیونکہ یہ سارا تیار کرکے میں کونسل میں پیش کروں گا اور کونسل اس پر نظر کرنے کے بعد یہ سفارش تیار کرکے جہاں ضرورت ہے کوئی ایسے قوانین جن کی نشاندہی کر دی جائے گی